اگر آپ کو یا آپ کے قریب کسی کو دل کے دورے کا شبہ ہو تو ابھی ہنگامی مدد بلائیں۔ مضمون بعد میں پڑھیں، اور خود گاڑی چلا کر اسپتال نہ جائیں۔

پاکستان میں یہ مسئلہ اتنا سنگین کیوں ہے؟

دل کی بیماریاں پاکستان میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں، اور جنوبی ایشیائی افراد میں یہ مغربی اقوام کے مقابلے میں پانچ سے دس سال پہلے شروع ہو جاتی ہیں — اکثر چالیس کی دہائی میں، بعض اوقات تیس کی دہائی میں۔ ہم میں انسولین کی مزاحمت اور پیٹ کی خطرناک چربی کم وزن پر ہی پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے "میں تو زیادہ موٹا نہیں" کوئی تسلی نہیں۔ 38 انچ کمر، بلند ٹرائی گلیسرائیڈز اور بغیر علاج بلڈ پریشر والا دبلا نظر آنے والا شخص بھی حقیقی خطرے میں ہے۔

دل کے دورے کی علامات کیا ہیں؟

سب سے عام علامت ہے سینے کے وسط میں دباؤ، بھاری پن، جکڑن یا گھٹن جو چند منٹ سے زیادہ رہے، یا آ کر دوبارہ لوٹ آئے۔ لوگ اسے اکثر تیز درد کے بجائے "سینے پر وزن" بتاتے ہیں۔

اس کے ساتھ عموماً یہ علامات ہوتی ہیں:

  • درد کا بائیں بازو، دونوں بازوؤں، جبڑے، گردن، اوپری کمر یا معدے تک پھیلنا
  • ٹھنڈا پسینہ — اچانک چپچپا پسینہ آنا
  • سانس پھولنا، چاہے سینے میں درد ہو یا نہ ہو
  • متلی، قے، یا شدید بدہضمی جیسا احساس
  • اچانک شدید تھکن، چکر یا گھبراہٹ

وہ علامات جو نظرانداز ہو جاتی ہیں

خواتین، ستر سال سے زائد عمر کے افراد اور شوگر کے مریضوں (جن کے اعصاب کمزور ہونے سے درد کم محسوس ہوتا ہے) میں سینے کا نمایاں درد سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ ان میں دورہ غیر معمولی تھکن، ہلکی سی محنت پر سانس پھولنے، متلی، یا جبڑے اور کمر کی تکلیف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں انہیں اکثر "گیس" یا تیزابیت سمجھ لیا جاتا ہے — اور اینٹی ایسڈ لیتے ہوئے دل کے پٹھے ضائع ہوتے رہتے ہیں۔

اصول: 35 سال سے زائد عمر کے کسی بھی شخص میں نئی، غیر واضح سینے، جبڑے، بازو یا اوپری کمر کی تکلیف کو اُس وقت تک دل کا مسئلہ سمجھیں جب تک ڈاکٹر خارج نہ کر دے۔

پہلے دس منٹ میں کیا کریں؟

  1. فوراً ہنگامی مدد بلائیں (ریسکیو 1122 یا قریبی اسپتال کی کارڈیک ایمرجنسی)۔ ایمبولینس راستے میں علاج شروع کر سکتی ہے، ذاتی گاڑی نہیں۔
  2. ہر کام روک کر بیٹھ جائیں، ٹیک لگا کر، گھٹنے موڑ کر۔ چلنا پھرنا یا "برداشت کرنا" نقصان دہ ہے۔
  3. 300 ملی گرام ایسپرین چبائیں (یا 100 ملی گرام کی تین گولیاں) — نگلیں نہیں — بشرطیکہ ایسپرین سے الرجی نہ ہو، ڈاکٹر نے منع نہ کیا ہو، اور خون نہ بہہ رہا ہو۔ چبانے سے جذب تیز ہوتا ہے اور یہ ایک قدم بقا کے امکانات واضح طور پر بڑھاتا ہے۔
  4. تنگ کپڑے ڈھیلے کریں اور مریض کو پُرسکون رکھیں۔
  5. اگر مریض بےہوش ہو جائے اور سانس معمول کے مطابق نہ ہو تو سینے کی دبائو والی CPR شروع کریں: سینے کے وسط پر، تیز اور مضبوط، فی منٹ تقریباً 100 سے 120 بار، مدد آنے تک جاری رکھیں۔
  6. کھانے پینے کو کچھ نہ دیں، اور کسی دوسرے شخص کی نائٹریٹ گولی ہرگز نہ کھلائیں۔

یاد رکھیں: وقت ہی پٹھے ہیں۔ ہر تیس منٹ کی تاخیر دل کو مستقل نقصان بڑھاتی ہے، اور پاکستان میں سب سے بڑی تاخیر سفر کی نہیں بلکہ "جائیں یا نہ جائیں" کے فیصلے کی ہوتی ہے۔

کون سے اعداد آپ کا خطرہ طے کرتے ہیں؟

پیمانہعمومی ہدفکیسے جانچیں
بلڈ پریشر130/80 mmHg سے کمگھریلو مانیٹر، ہفتہ بھر دن میں دو بار
HbA1c (تین ماہ کی شوگر)5.7% سے کم (غیر ذیابیطسی)لیب ٹیسٹ
LDL کولیسٹرولجتنا کم ہو بہترلپڈ پروفائل
کمر کا ناپمرد 90 سینٹی میٹر، خواتین 80 سے کمناف کے مقام پر فیتہ
تمباکو نوشیبالکل نہیں — نسوار اور ویپ سمیت
جسمانی سرگرمیہفتے میں 150 منٹ تیز واک

کمر کے یہ پیمانے عالمی پیمانوں سے کم ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں خطرہ کم کمر پر ہی شروع ہو جاتا ہے۔

گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنا کیوں ضروری ہے؟

ہائی بلڈ پریشر زیادہ تر لوگوں میں اُس وقت تک کوئی علامت پیدا نہیں کرتا جب تک وہ دل، گردوں یا آنکھوں کو نقصان نہ پہنچا دے۔ کلینک کی ایک ریڈنگ ناکافی ہے — ڈاکٹر کے سامنے گھبراہٹ سے بی پی بڑھ جاتا ہے، اور ایک دن کی نارمل ریڈنگ کچھ ثابت نہیں کرتی۔

ہفتہ بھر دن میں دو بار گھر پر ریڈنگ لینے سے ڈاکٹر کو اصل تصویر ملتی ہے۔ تفصیل کے لیے بلڈ پریشر مانیٹر کیسے منتخب کریں پڑھیں؛ تقریباً سب کے لیے بازو والا خودکار مانیٹر ہی درست انتخاب ہے۔

دل کا خطرہ کم کرنے کے مؤثر اقدامات

  • تمباکو نوشی چھوڑیں۔ خطرہ ہفتوں میں کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے زیادہ فائدہ کوئی اور قدم نہیں دیتا۔
  • بلڈ پریشر ہدف پر لائیں — وزن، نمک میں کمی اور تجویز کردہ دوا باقاعدگی سے لے کر۔
  • پیٹ کی چربی کم کریں۔ صرف 5 سے 10 فیصد وزن کم کرنے سے بھی بلڈ پریشر، شوگر اور چکنائی بہتر ہوتی ہے — دیکھیں وزن کم کرنے کا گائیڈ۔
  • نمک کم کریں۔ ہماری خوراک میں زیادہ نمک نمکدان سے نہیں آتا — وہ نمکو، پاپڑ، اچار، ڈبہ بند مصالحے اور باہر کے کھانے میں ہوتا ہے۔
  • ہفتے میں پانچ دن، تیس منٹ تیز چہل قدمی۔
  • تجویز کردہ ادویات روزانہ لیں۔ "اب طبیعت ٹھیک ہے" کہہ کر بلڈ پریشر یا سٹیٹن کی دوا بند کر دینا سب سے عام اور سب سے مہنگی غلطی ہے۔
  • نیند اور ذہنی دباؤ پر توجہ دیں۔ شدید خراٹے اور دن میں نیند سلیپ ایپنیا کی علامت ہو سکتی ہے جو بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔

کیا سپلیمنٹس دل کی حفاظت کرتے ہیں؟

کوئی سپلیمنٹ بلڈ پریشر کنٹرول، تمباکو نوشی ترک کرنے یا ضرورت پڑنے پر سٹیٹن کا متبادل نہیں۔ اومیگا 3 فش آئل ٹرائی گلیسرائیڈز کم کرنے میں کچھ فائدہ رکھتا ہے، اور وٹامن ڈی کی حقیقی کمی پوری کرنا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ البتہ اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں — خون پتلا کرنے والی دوا کے ساتھ فش آئل اور زیادہ مقدار میں وٹامن ای خون بہنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

بغیر علامات کے جانچ کس کو کروانی چاہیے؟

اگر آپ کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے، یا 30 سال سے زیادہ ہے اور ساتھ میں شوگر، ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، موٹاپا، یا والدین/بہن بھائی میں کم عمری کی دل کی بیماری (والد 55 سے پہلے، والدہ 65 سے پہلے) ہو، تو ڈاکٹر سے دل کے خطرے کا جائزہ ضرور کروائیں۔

یہ مضمون عمومی طبی معلومات ہے، تشخیص یا نسخہ نہیں۔ اپنی حالت کے مطابق مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔